6 جنوری 2012 - 20:30

بحرين کے انقلابي، ملک کي شاہي حکومت کي جانب سے سخت گير پاليسيوں کے باوجود جمہوریت کے حق ميں مظاہرے کر رہے ہيں-

ابنا: اطلاعات کے مطابق بحرين کے انقلابيوں نے جزيرہ سترہ ميں مظاہرے کئے ہيں اور اس عزم کا اعلان کيا ہے کہ حکومت کي جانب سے پر تشدد اقدامات کے باجود پر امن انقلاب کے لئے جدوجہد کرتے رہيں گے- مظاہرين نے اپنے ہاتھوں ميں ايسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر عوام شکست نہيں کھائيں گے جيسے نعرے درج تھے-

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ حکومت کي جانب سے بڑے پيمانے پر گرفتاريوں اور لوگوں کے گھروں پر کيمائي گيسوں کے حامل بموں کے حملوں کے باوجود بحريني عوام سڑکوں پر آکے جمہوريت کے حق ميں مظاہر ے کرتے چلے آرہے ہيں-ادھر اطلاعات ہيں کہ سيکڑوں کي تعداد ميں بحريني شہريوں نے شہدائے انقلاب سے تجديد وفا کے لئے ابوقوہ نامي علاقے ميں رات گئے مشعل بردار جلوس نکالا ہے-

ايک اور اطلاع يہ ہے کہ بحريني سيکورٹي فورس نے سار نامي علاقے ميں ايک گھر پر زہريلي گيس کے گولے پھينکے ہيں- سعودي فوجيوں کي حمايت يافتہ بحريني حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں نے انساني حقوق مرکز کے سربراہ نبيل رجب کو بھي گرفتار کرليا ہے اور انہيں زبردست تشدد کا نشانہ بنايا ہے- نبيل رجب کے بيٹے نے ان کي گرفتاري کي تصديق کرتے ہوئے کہا ہے ان کے والد کو تشويشناک حالت ميں اسپتال ميں داخل کرايا گيا ہے.

........

/169